ابنا: صدر بشار اسد نے لبنان کے المیادین ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے کچھ ملک شام میں دہشتگرد گروہ کی ہر طرح سے حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کے ذریعے بحران شام کے حل پر تاکید کی اور کہا کہ شام کی حکومت ان افراد سے مذاکرات نہیں کرے گي جن کے ہاتھ شامی قوم کے خون سے سنے ہوئے ہیں۔شام کے صدر نے دہشتگردی سے مقابلے میں امریکا کی دوہری پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام کو اس وقت القاعدہ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شام میں ہو رہا ہے وہ مصر اور تیونس سے مختلف ہو اور شروع میں جو مظاہرے کئے گئے وہ پیسے لینے کے لئے تھے اور پر امن مظاہروں میں مسلح افراد شامل ہوگئے اور انہوں نے سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا۔بشار اسد نے کہا کہ ہر مخالف گروہ جس نے اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہتھیار اٹھا رکھا ہے، باغی اور دہشتگرد ہے۔ انہوں نے شام اور امریکا کے درمیان اختلافات کے بارے میں کہا کہ امریکی یہ خیال کرتے ہیں کہ تمام ممالک ان کی خدمت میں رہیں اور یہ نکتہ شام اور امریکا کے درمیان اختلاف کی جڑ ہے۔.......
/169